ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھٹکل: کورونا کی دہشت: کرناٹکا حکومت نے 31مارچ تک مساجد میں نماز باجماعت پر لگائی روک

بھٹکل: کورونا کی دہشت: کرناٹکا حکومت نے 31مارچ تک مساجد میں نماز باجماعت پر لگائی روک

Mon, 23 Mar 2020 19:33:33    S.O. News Service

بھٹکل 23مارچ (ایس او نیوز) ریاست کرناٹکا میں بڑی تیزی سے پھیل رہی کورونا وائرس کی وباء پر قابوپانے کے لئے سرکاری سطح پر مختلف اقدامات کیے جارہے ہیں جس کا بنیادی مقصد عوام کو مجمع لگانے اور ایک دوسرے سے براہ راست سماجی رابطے میں آنے سے روکنا ہے۔

 اب ایک اور تازہ اقدام کے طور پر محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے جاری کیے گئے سرکیولر کے تحت ضلع شمالی کینرا کے ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر  ہریش کمار نے احکام جاری کیے ہیں کہ 31مارچ تک تمام مساجد میں بشمول جمعہ پنچ وقتہ باجماعت نمازوں پر روک لگائی جائے۔

حکومت کرناٹکا کے محکمہ اقلیتی بہبود کے سیکریٹری اے بی ابراہیم (آئی اے ایس) کے ذریعے جو سرکیولر جاری کیا گیا ہے اس میں کہا گیا ہے کہ اس وقت صحت عامہ کے مفاد کو پیش نظر رکھتے ہوئے سماج کے ہر طبقے کو سرکاری اقدامات کا تعاون کرنا چاہیے۔ چونکہ یہ وباء سماجی رابطے سے پھیلتی جارہی ہے اور بیرونی ممالک سے واپس لوٹنے والوں کے اندر اس بیماری کی موجود گی ثابت ہوگئی ہے اس لئے لوگوں کو میل جول اور ہجوم سے دور رکھنا ضروری ہے۔

سرکیولر میں کہا گیا ہے کہ نماز کے دوران لوگوں کو کندھے سے کندھا ملاکر کھڑاہونا پڑتا ہے اور ایک دوسرے سے باربار ملنے جلنے اور مصافحہ کرنے کا موقع پیدا ہوتا ہے۔ مساجد میں اے سی اور کولر کی وجہ سے ایسا ٹھنڈا ماحول ہوتا ہے جو وائرس کے حق میں ہوتا ہے۔ اس لئے مکہ اور مدینہ کے علاوہ عرب ممالک کی مساجد میں بھی باجماعت نمازوں پر پابندی لگادی گئی ہے۔ ان حالات کے پس منظر میں محکمہ اقلیتی بہبود نے علمائے کرام،چیر مین کرناٹکا اوقاف بورڈ اور منگلوروکے دونوں قاضی صاحبان کے ساتھ مشورہ کے بعدحکومت نے ڈیساسٹر منیجمنٹ ایکٹ اور کریمنل پروسیجر کوڈ کے تحت حکم جاری کیا ہے کہ 31مارچ تک تمام مساجد میں باجماعت نمازوں پر پابندی رہے گی، جس میں جمعہ کی نماز بھی شامل ہے۔


Share: